یقین جانیں …
زندگی .. آپکو کبهی بهی پھولوں کی سیج نہیں دے گی . یہ کانٹوں کا گلدستہ ہے . یہ تنہائی کی چادر ہے . یہ غم کی طویل شب ہے . یہ تیز بارش میں بنا چهتری کا لمبا سفر ہے .
اگر ….
انسان اپنی کوششوں پر نظر دوڑائے تو یہ انتهک محنت کا ایک ایسا پرجیکٹ ہے جس کے بہت سے صفحات کسی اور ہی سائنس کا تجربہ لگتے ہیں . یہ … ایسا محاذ ہے جس پر انسان ایک طویل مدت سے کار بند ہے اور جانے کب تک یہی سلسلہ چلے .
پهر اگر ایسے میں تهکن محسوس ہونے لگے … تو گبهرانا نہیں ہے . تب آپ کو وہاں مشکلات کی کال کوٹهری میں وہ دیا جلانا ہے جس کے لئے کوئی بهی دیا سلائی بهی میسر نہ ہو …. اس کا حوصلہ آپ کو اللہ کی ذات پر یقین دے گا ..
یہ یقین کہ وہ رب جو ابراہیم علیہ السلام کو جلتے آلاؤ سے بنا کسی خراش کے نکال سکتا ہے تو آپکو بهی تنہا نہیں چهوڑے گا …
وہ جو یوسف علیہ السلام کو کنواں سے نکال کر مصر کی بادشاہی دے سکتا ہے .. وہ آپکا بهی رب ہے .. تو وہ اپکو کیسے اکیلا چهوڑ سکتا ہے …
جبکہ اس نے یہ لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے ..
ان اللہ مع الصابرین …
اور صبر تو حادثات کی پہلی چوٹ پر کیا جاتا ہے (حدیث)
پهر کیوں نہ ہم اپنے رب کا ساته چاہیں ؟؟ اور وہ رب کہ جو نہایت مہربان اور بخشنے والا ہے .
کیوں نہ ہم اس کو جا کر بتائیں .. کہ پروردگار … یہ بوجھ ہم سے نہ اٹهایا جاتا … اس کو ہلکا کر دے .. ؟؟
کیوں نہ ہم اس زندگی کی تمام گٹھڑیوں کو بیچ کر اس رب کی رضا خرید لیں .؟؟
کیوں نہ ایسا کریں کہ رب کے ساتھ تنہائی کے ایسے لمحات گزار لیں کہ آخرت میں ان لوگوں میں شامل ہو سکیں جو صرف رب کے سامنے اس کے خوف سے رو پڑتے تهے . اور دنیا ان لوگوں سے بے خبر رہی ..
کیوں نہ ؟؟؟
نہ جانے کونے لمحے میں
ہم سب راکھ ہو جائیں
چلو کچھ کام کر جائیں
کسی کے کام آجائیں
کوئی رستہ سجها جائیں
کوئی بستہ تهما جائیں
کسی کی رہنمائی اور
کسی کا گهر بنا جائیں … !!